کیا غضب شخص تھا ہر بات پکڑ لیتا تھا ایک ملاقات سے اوقات پکڑ لیتا تھا اب میرا نام بھی لینے سے کرتا ہے گریز وہ جو محفل میں میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا