
عید سے ایک دن پہلے امتیاز سے خریداری کرنے کے بعد ٹرالی لیے بل کی ادائیگی کے انتظار میں کھڑی تھی جب میرے برابر ایک اور درمیان عمر کی خوش شکل سی لڑکی اشیائے خوردونوش سے بھری ٹرالی لیے میرے برابر آکر کھڑی ہو گئی۔چہرے پہ دنیا جہاں کی بے زاری طاری اور ماتھے پہ سلوٹیں لیے وہ کافی غصے میں دکھائی دے رہی تھی ۔اس کے ساتھ سنہرے بالوں والا اسی کا عمر یقینا اس کا شوہر تھا جسے وہ برابر غصے سے دیکھنے کے ساتھ عالم غیض و غضب میں مسلسل بڑبڑا بھی رہی تھی ۔بل کی ادائیگی میں مجھے کوئی پینتالیس منٹ لگے کیونکہ رش بہت زیادہ تھا۔اس دوران وہ ایک منٹ کا بھی وقفہ دئیے بغیر اپنے شوہر پہ گرجتی برستی رہی وہ جھینپا شرمندہ سا نظر آیا۔پر اسکی آواز میں نے نہیں سنی۔
میں کیش کاؤنٹر کی طرف جانا چا رہی تھی اور اس غصے میں بھری خاتون نے اپنے سامان سے بھری ٹرالی میری ٹرالی کے ساتھ بالکل جیسے جوڑ کر کھڑی کر رکھی تھی۔میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کی اپنی ٹرالی تھوڑی سی سائیڈ پہ کر لیں تاکہ میں اپنی ٹرالی نکال سکوں یہ سن کر اس نے ایک عقابی بری سی نگاہ مجھ پہ ڈالی اور خشونت زدہ چہرا بنا کر ایک طرف ہو گئی۔
میں آگے ہوئی تو اس نے پیچھے سے ٹرالی اپنے ساتھ کھڑی ایک اور عورت کی ٹانگ میں مار دی ۔اس نے زیادہ احتجاج تو نہیں کیا پر ہلکا سا شور ضرور ہوا۔میرا سامان پیک ہوا تو میں ایک طرف ہونے لگی اس دوران غصیلی عورت اپنی ٹرالی لے کر میری خالی کی ہوئی جگہ پہ آئی اور اندھا دھند آگے ہوئی ٹرالی کا ایک پہیہ میرے جوتے پہ آ گیا اور اس دن میں نے پہلی بار بند شوز کے بجائے کولہا پوری پہن رکھی تھی پاؤں کی انگلی ٹرالی سے دبی تو تکلیف کا احساس ہوا پر مجال ہے دوسری طرف کوئی شرمندگی کا احساس ہو چہرے پہ وہی کرختگی خشونت بےزاری جس نے اس کی اچھی خاصی جازب نظر شخصیت کو دھندلا دیا تھا ۔
میں نے مڑ کر اسے غور سے دیکھا اور کہا آپ بہت پیاری ہیں اور بھی زیادہ خوبصورت نظر آئیں گی اگر اپنے اندر تھوڑی نرمی پیدا کریں گی ۔
پھر میں نے دوبارا پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ویسے میرا اندازہ ہے وہ اس کے بعد بھی غصے میں ہی ہو گی 😁۔
لیکن اس چھوٹے سے واقعے سے میں نے سبق سیکھا کہ آپ بے شک جتنے بھی حسین و جمیل ہیں لیکن آپ کے انداز اور روئیے میں نرمی دھیما پن نہیں تو اتنے حسن کے باوجود بھی آپ کے اندر ایک ان دیکھی سی کمی محسوس ہو گی ۔اس لیے اپنی زبان اخلاق میں نرمی پیدا کریں ۔تاکہ خلق خدا آپ سے خفا اور خوفزدہ نہ ہو۔