یاد اس کی آج بھی دل کو بہت ستاتی ہے خاموش رات میں آنکھوں سے برس جاتی ہے مگر وقت کی ہوا سب کچھ بدل دیتی ہے یہ اداسی بھی آہستہ آہستہ گزر جاتی ہے